اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی کم کرنے کے مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق یہ مشاورت ابھی غیر رسمی مرحلے میں ہے اور امریکی فوج کی خطے میں تعیناتی کے جامع ازسرِنو جائزے کے لیے کوئی براہِ راست حکم جاری نہیں کیا گیا، تاہم یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ امریکی حکام مستقبل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کم کرنے کی ممکنہ پالیسی کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ خطے میں دو طیارہ بردار بحری جہاز اور 12 سے زائد گائیڈڈ میزائلوں سے لیس جنگی جہاز بھی امریکی فوجی قوت کا حصہ ہیں۔
سی این این نے مزید بتایا کہ امریکی فوج جنگ کے دوران متاثر ہونے والی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ان میں بعض فوجی مراکز کو زیرِ زمین مقامات پر منتقل کرنا بھی شامل ہے تاکہ انہیں ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
رپورٹ میں امریکی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ نے خطے میں متعدد امریکی فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔ بحرین، قطر، سعودی عرب اور کویت میں امریکی تنصیبات ایرانی حملوں سے متاثر ہوئیں، جبکہ ریاض میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے وابستہ ایک مرکز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
سی این این نے ایک موجودہ امریکی عہدیدار اور ایک سابق انٹیلی جنس افسر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض میں سی آئی اے کا مذکورہ مرکز عملاً تباہ ہوگیا ہے۔ امریکی حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ جن تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا ہے، ان میں سے بعض کو تعمیرِ نو کی بھاری لاگت کے باعث دوبارہ قائم نہ کیا جائے۔
امریکی حکام کے زیرِ غور ایک اور تجویز خطے میں مستقل طور پر تعینات فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی تعداد کم کرنا اور ان میں سے کچھ کو امریکا میں رکھنا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں مخصوص مشن کے لیے عارضی طور پر مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا سکے۔
سی این این کے مطابق، پینٹاگون کے بعض اعلیٰ حکام بھی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کے حامی ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد خطے کے اتحادی ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ کردار دینے کی وسیع تر امریکی حکمتِ عملی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے یا تہران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے فی الحال کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے بھی ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسی سلسلے میں امریکی بحریہ کے سربراہ ڈیرل کڈل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی افواج مستقبل قریب میں بحرین واپس نہیں جائیں گی، جہاں امریکی بحری بیڑے کا پانچواں بیڑا طویل عرصے سے موجود ہے۔
سی این این کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف واشنگٹن کے لیے فوجی اور دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کی سلامتی اور مستقبل میں خطے میں امریکی موجودگی کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آپ کا تبصرہ